ابنا: مزید تفصیلات کے مطابق کراچی بار کے شیعہ وکیل وقار حسین کو کالعدم سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں نے کراچی کے مصروف ترین علاقے مارٹن روڈ نزد تین ہٹی کے قریب نشانہ بنایا، ایڈوکیٹ وقار حسین گاڑی نمبر AQD-203 میں اپنے گھر سے آفس کی طرف جارہے تھے کے جمشید کواٹر تھانے کی حدود میں دہشتگردوں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کردی کالعدم سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں کی فائرنگ سے شیعہ ایڈوکیٹ وقار حسین شدید زخمی جبکہ اُن کا ڈرائیور معمولی زخمی ہوگیا دونوں زخمیوں کو آغا خان اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ ڈاکٹر کے مطابق شیعہ ایڈوکیٹ وقار حسین کو 6 گولیاں لگی ہیں۔ مومنین سے دُعائے صحت کی التماس ہے۔
واضع رہے کہ اس قسم کا کراچی میں پہلا واقعہ نہیں، اس سے قبل بھی کالعدم سپاہ صحابہ کے دہشتگرد متعدد شیعہ دُکلاء کو نشانہ بناچکے ہیں۔ گزشتہ ایک دو سالوں میں ایڈوکیٹ مختار بخاری، ایڈوکیٹ بدر جعفری، ایڈوکیٹ کفیل جعفری، ایڈوکیٹ شکیل جعفری، ایڈوکیٹ صلاحدین جعفری اور ایڈوکیٹ علی فرقے کی بنیاد پر کراچی شہر میں کالعدم سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں کا نشانہ بن چُکے ہیں۔
پاکستان کی آزاد عدلیہ کے چیف جسٹس افتخار چوہدری خود اپنے ہی وکلاء کے قتل عام پر خاموش نظر آتے ہیں۔ ایشیا میں انصاف کے نام پر کئی ایوارڈ حاصل کرنے والے چیف جسٹس کو سموسے کی قیمت کو تو نظر آجاتی ہے مگر شیعہ وکیلوں کا خون ںظر نہیں آتا۔ چیف جسٹس کو اپنے اس گھناونے عمل پر شیعہ علماء اور معروف شیعہ سیاستدان فیصل رضا عابدی سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔
.......
/169